صنعت ایہام

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - وہ صنعت جس میں شاعر اپنے کلام میں کوئی ایسا لفظ لائے جس کے دو معنی ہوں۔ ایک قریب دوسرا بعید اور شاعر کی مراد بعید معنی سے ہو۔ "صنعت ایہام کی طرف مائل تھا، شعر شستہ اور صاف ہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، غالب : فکروفن، ٨٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مرکب اضافی ہے۔ عربی سے مشتق دو اسماء کو کسرۂ اضافت کے ذریعے جوڑا گیا ہے۔ مذکور ترکیب میں 'صنعت' مضاف اور 'ایہام' مضاف الیہ ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٨١ء کو "بحرالفصاحت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ صنعت جس میں شاعر اپنے کلام میں کوئی ایسا لفظ لائے جس کے دو معنی ہوں۔ ایک قریب دوسرا بعید اور شاعر کی مراد بعید معنی سے ہو۔ "صنعت ایہام کی طرف مائل تھا، شعر شستہ اور صاف ہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، غالب : فکروفن، ٨٢ )

جنس: مذکر